جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 06:35
شہید رہبر کا ایران میں اعتکاف کو زندہ کرنے میں کردار بےنظیر رہا/امام خامنہ ای اعتکاف کو ’’اُمّ العبادات‘‘ قرار دیتے تھے:حجت الاسلام علی رضا تکیہ ای

حوزہ/اعتکاف کی گیارہویں قومی کانفرنس تہران میں منعقد ہوئی؛ جس میں ایران بھر سے اعتکاف کی سنت کو اجراء کرنے والے عہدیداروں سمیت سول اور عسکری شخصیات نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اعتکاف کی گیارہویں قومی کانفرنس کا آغاز گزشتہ روز بدھ کو امام علیؑ یونیورسٹی تہران میں ہوا، جس میں ایران بھر کی سیاسی اور عسکری شخصیات نے شرکت کی۔

شہید رہبر کا ایران میں اعتکاف کو زندہ کرنے میں کردار بےنظیر رہا/امام خامنہ ای اعتکاف کو ’’اُمّ العبادات‘‘ قرار دیتے تھے:حجت الاسلام علی رضا تکیہ ای

اس موقع پر رہبرِ انقلابِ اسلامی کے مشیر ڈاکٹر حداد عادل نے اعتکاف کے شعبے میں اپنی بیٹی، شہیدہ زہراء حداد عادل، کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کی شہادت کے وقت عمر 46 سال تھی اور وہ 28 سال تک شہید رہبرِ انقلاب کے خاندان میں رہیں۔ وہ شہید رہبرِ انقلاب کی بہو اور موجودہ رہبر کی اہلیہ تھیں۔ ان 28 برسوں میں سے 25 سال انہوں نے لڑکیوں کے ثقافتی ہائی اسکول میں بطور معلمہ خدمات انجام دیں۔

انہوں نے کہا کہ میری بیٹی ہر سال اپنی ذمہ داری سمجھتی تھیں کہ طالبات کو اعتکاف میں لے جائیں اور ایک ماں کی طرح ان نوعمر لڑکیوں کا خیال رکھیں، ان کے مسائل حل کریں اور ان کی تربیت میں اپنا کردار ادا کریں۔ جب وہ گھر پر موجود نہیں ہوتیں تو ان کے شوہر بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھال لیتے تھے اور اطمینان کے ساتھ انہیں اعتکاف کے پروگراموں میں شرکت کا موقع فراہم کرتے تھے۔

شہید رہبر کا ایران میں اعتکاف کو زندہ کرنے میں کردار بےنظیر رہا/امام خامنہ ای اعتکاف کو ’’اُمّ العبادات‘‘ قرار دیتے تھے:حجت الاسلام علی رضا تکیہ ای

ڈاکٹر حداد عادل نے کہا کہ وہ طالبات کو تہران کی شاہراہِ قزوین میں واقع مسجد پنبه‌چی لے جاتی تھیں۔ یہ ایک عام سی اور نسبتاً غیر معروف مسجد تھی۔ میں بھی ایک مرتبہ طالبات سے خطاب کرنے کے لیے وہاں گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری بیٹی اعتکاف کو اس قدر اہمیت دیتی تھیں کہ دوسرے اسکولوں کے ذمہ داران بھی، جب انہیں اپنی طالبات کے ساتھ جانے کے لیے کوئی شخص نہیں ملتا تھا، تو انہیں میری بیٹی کے سپرد کر دیتے تھے۔ وہ بھی خوش دلی سے یہ ذمہ داری قبول کرتیں اور تنہا ہی تمام طالبات کے امور کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

ایرانی مرکزی اعتکاف کمیٹی کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید علیرضا تکیہ‌ای نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ سے اعتکاف کے حوالے سے عہد لیا تھا۔ اسی طرح رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اعتکاف کے قیام اور انعقاد کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے، یہاں تک کہ اگر کسی وجہ سے ایک سال اعتکاف نہ کر پاتے تو اس کی تلافی کے لیے اگلے سال دوگنا اعتکاف کرتے تھے، تاکہ جو عبادت رہ گئی تھی اس کا ازالہ ہو سکے۔

شہید رہبر کا ایران میں اعتکاف کو زندہ کرنے میں کردار بےنظیر رہا/امام خامنہ ای اعتکاف کو ’’اُمّ العبادات‘‘ قرار دیتے تھے:حجت الاسلام علی رضا تکیہ ای

انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر میں اسلامی سیاسی نظام کے بانی، امام خمینیؒ کی پاکیزہ روح پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی اور رحمتیں نازل ہوں۔ انہوں نے اپنی بلند ہمتی کے ذریعے ان معارف کو دوبارہ معاشرے کے سامنے پیش کیا جو فراموش ہو چکے تھے، جن سے غفلت برتی جا رہی تھی یا جو مختلف چیلنجوں کا شکار تھے۔

حجت الاسلام تکیہ‌ای نے کہا کہ امام خمینیؒ کے جانشین، شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی نے اپنے پورے دورِ قیادت میں اعتکاف کے حوالے سے خصوصی حساسیت، دلچسپی اور توجہ کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ شہید رہبرِ انقلاب کے اعتکاف سے متعلق ارشادات اور مؤقف کو ایک کتابچے میں جمع کیا گیا ہے، جس کی رونمائی اسی رات کی جائے گی۔ انہوں نے 47 مرتبہ اعتکاف کے بارے میں گفتگو کی، اس کی رہنمائی فرمائی اور اس کے فروغ کے لیے خصوصی اہتمام کیا۔ یہ درحقیقت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے راستے کا تسلسل ہے۔علماء أمّتی أفضل من أنبیاء بنی‌إسرائیل. یہ بزرگ انبیاء کے راستے اور اسی بابرکت مشن کو آگے بڑھاتے رہے ہیں۔

شہید رہبر کا ایران میں اعتکاف کو زندہ کرنے میں کردار بےنظیر رہا/امام خامنہ ای اعتکاف کو ’’اُمّ العبادات‘‘ قرار دیتے تھے:حجت الاسلام علی رضا تکیہ ای

مرکزی اعتکاف کمیٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ شہید امامِ انقلاب نے اعتکاف کے فروغ کے لیے اس قدر کام کیا ہے کہ اس کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے میں آپ کو اس قیمتی نمائش کی طرف متوجہ کرنا بہتر سمجھتا ہوں جو آپ کے سامنے، میدان اور آقا کے قدم گاہ میں منعقد کی گئی ہے۔ وہاں جا کر ملاحظہ کریں؛ حقیقتاً ان خدمات کو شمار کرنا اور بیان کرنا دشوار ہے اور یہ مختصر وقت ان کی تفصیل کے لیے کافی نہیں۔ متعدد مواقع بھی ان تمام امور کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے شہید رہبر نے اعتکاف کے لیے اس قدر کام کیا کہ وہ بجا طور پر، حقیقتاً اور کسی مبالغے کے بغیر، ’’اعتکاف کو زندہ کرنے والے‘‘ کہلانے کے مستحق ہیں۔ ان کی اس خدمت کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے ان برسوں کے دوران ہمارا ہاتھ، آپ کا ہاتھ، ایرانی اسلامی معاشرے کا ہاتھ اور ان تمام لوگوں کا ہاتھ تھاما جنہیں خدا کی تلاش تھی اور انہیں قدم بہ قدم آگے بڑھایا۔ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ پورے ملک کو اعتکاف جیسی جامع اور قابلِ قدر عبادت کی برکت حاصل ہوئی ہے۔

حجت الاسلام تکیہ ای نے اعتکاف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اعتکاف کی عبادت کو معمولی نہ سمجھیں۔ اعتکاف ایک مؤکد مستحب عبادت ہے، لیکن اہلِ علم و فضیلت کی حامل بزرگ شخصیات جیسے مجاہد شہید امام، آیت الله العظمیٰ جوادی آملی اور دیگر علماء، کے مطابق اسے ’’اُمّ العبادات‘‘ یعنی عبادتوں کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

شہید رہبر کا ایران میں اعتکاف کو زندہ کرنے میں کردار بےنظیر رہا/امام خامنہ ای اعتکاف کو ’’اُمّ العبادات‘‘ قرار دیتے تھے:حجت الاسلام علی رضا تکیہ ای

انہوں نے کہا کہ ان شخصیات نے ہمیں سکھایا ہے کہ اگر آپ کو یہ طعنہ دیا جائے کہ آپ واجبات کو چھوڑ کر اس مستحب عبادت پر توجہ کیوں دیتے ہیں، تو جواب دیں کہ یہ مستحب عبادت، واجبات کی پشت پناہی کرتی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے۔

انہوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی امانت کے اہل اور اس کے امانت دار ہیں، جنہوں نے اس امانت کا بوجھ شایستگی کے ساتھ اٹھایا ہے۔ ہمیں امانت کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے عزت و تکریم حاصل ہوئی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ،تاہم یہ عزت ہر شخص کے لیے یکساں نہیں، کیونکہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ.

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha